ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شموگہ تشدد: کانگریس نے ریاستی وزیر ایشورپا سے پوچھا ؛ ایم ایل اے بنے رہنے کیلئے آپ مزید کتنے لوگوں کی جان لیں گے ؟

شموگہ تشدد: کانگریس نے ریاستی وزیر ایشورپا سے پوچھا ؛ ایم ایل اے بنے رہنے کیلئے آپ مزید کتنے لوگوں کی جان لیں گے ؟

Tue, 22 Feb 2022 21:20:25    S.O. News Service

شیموگہ،22؍فروری (ایس او نیوز) کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے ترجمان اور سابق رکن اسمبلی کے بی پرسننا کمار نے  ریاستی وزیر اور بی جے پی  رہنما  ایشورپا سے پوچھا کہ  آپ   اپنے آپ کو ایم ایل اے بنائے رکھنے کیلئے  مزید کتنے لوگوں کی جان لینگے ؟

 پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا پرسننا کمار نے کہا کہ ہندوئوں کی حفاظت کے نام پر ایشورپا ہندوئوں سے ووٹ لیتے ہیں لیکن خودایشورپاکے حامیوں میں شمار ہونے والے ہرشا کو تحفظ فراہم کر نے میں  ناکام رہ جاتے   ہیں،خودہرشاکے اہل خانہ  نے میڈیا کو بتایا ہے کہ  ہر شاکو دھمکیاں مل رہی تھیں، سوال یہ ہے کہ معلوم ہ وجانے کے باوجود  ایشورپانے اسے  تحفظ فراہم کیوں  نہیں کیا ؟،اس کا مطلب واضح ہے کہ یہاں  لوگ محفوظ نہیں ہیں۔اس معاملے کوعدالتی تحقیقات کے ذریعے  بے نقاب کیاجانا چاہئے،لیکن وہ خودبھی این آئی اے کی جانچ کامطالبہ کررہے ہیں،ان کا یہ مطالبہ صرف لفظی نہ ہوبلکہ قانونی طورپر ہو۔

پرسننا کمار نے کہاکہ پُرتشدد واقعات سے قبل ہی ایشورپانے بیان دیاتھاکہ شہرمیں پُرتشددواقعات کے پیچھے باہرکی طاقتوں کا ہاتھ ہے،جب انہیں اس بات کاعلم تھا تو انہوں نے اس کی اطلاع پولیس کو کیوں نہیں دی ،کل ہونے والے پُر تشددواقعات سے جونقصانات ہوئے ہیں۔ پرسننا کمار نے مطالبہ کیا کہ  نقصانات  کی بھرپائی ایشورپاکے ذریعے سے ہی کروائی جائے۔پرسنناکمارنے سوال اٹھایاکہ ان کے ایم ایل اے بنے رہنے کیلئے اور کتنے لوگوں کی یہ بلی لیں گے ؟

اس سے پہلے گوگل،وشواناتھ شیٹی اور اب ہرشاکی جان لی گئی ہے۔اپنے بیٹے کو اگلے اسمبلی انتخابات میں امیدواربنانے کیلئے کیاایسے تیاری کرنے کی ضرورت ہے،اگر ایساہے تو ممکن ہے کہ مزید ایسی جانیں جائینگی۔تحقیقات کے دوران ایشورپاکی مداخلت ہوگی تو انصاف نہیں مل سکتا،ہرشاکے اہل خانہ کے ساتھ ہم ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اُس کے اہل خانہ کو سرکاری نوکری دی جائے،جن دُکانوں کو نقصان پہنچاہے اُنہیں مالی امداددی جائےاور سواری مالکان اور ٹھیلہ گاڑیوں کے نقصانات کی بھی بھر پائی  کی جائے۔

شیموگہ میں پچھلے دودنوں سے ہونے والے پُرتشدد واقعات کے دوران پولیس نے قتل کے ملزمان کو گرفتارکرتے ہوئے اچھاکام کیاہے،مگر ساتھ ہی  ہم اس بات کابھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قتل کی سازش کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے اس کی بھی تحقیقات کی جائے۔


Share: